ابنا: وزارت خارجہ کے ترجمان رامين مہمان پرست نے کہا ہے کہ اسلامي جمہوريہ ايران کي پاليسي علاقے کے ملکوں کے ساتھ موجودہ تعلقات کو مزيد مستحکم بنانا ہے اور مغربي ملکوں کي موجودگي سے نہ صرف يہ کہ علاقے کے امن و استحکام کويقيني بنانے ميں مدد نہيں ملے گي بلکہ اس سے مختلف ميدانوں ميں مشکلات و مسائل ميں اضافہ ہوگا - ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مغربي ملکوں کو افغانستان اور عراق ميں لاکھوں افراد کا قتل عام کرنے پر مبني اپنے سابقہ اقدامات پر نظر ڈالني چاہئے-
وزارت خارجہ کےترجمان نے کہا کہ علاقے ميں رونما ہونےوالے حاليہ انقلابات ايران ميں امام خميني رح کي زير قيادت کامياب ہونےوالے اسلامي انقلاب سے ہي متاثر ہيں اوراس بات کو امريکا اور مغرب والے پسند نہيں کررہے ہيں- انہوں نے کہا کہ اسي لئے امريکا اور مغرب علاقے ميں رونما ہونےوالے انقلابات کو منحرف کرنے کے لئے اپني پوري کوشش صرف کررہے ہيں -
اسلامي جمہوريہ ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسلامي بيداري کو اقوام کي عظيم جد وجہد کا غماز قرارديا اور کہا کہ علاقے کي اقوام کي اسي ثابت قدمي کي ہي بدولت آج مصر کے عوام جہاں کي حکومت چند مہينے قبل تک علاقے ميں اسرائيل کي سب سے بڑي حامي تھي اپنے ملک سے اسرائيلي سفير کو نکال ديئے جانے کا مطالبہ کررہے ہيں -
............
/169